پیر ، ۱۵ دسمبر ، ۲۰۲۵

اسرائیلی حملوں کے بعد شامی حکومت اور دروز قبیلے میں نئی جنگ بندی کا اعلان

شام کی حکومت نے سرکاری فورسز اور اقلیتی دروز قبیلے کے درمیان کئی دن جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا نیا اعلان کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ان جھڑپوں کے بعد طاقتور پڑوسی ملک اسرائیل نے بھی لڑائی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ شام کی وزارت داخلہ اعلان اور دروز کمیونیٹی کے مذہبی رہنما کے ویڈیو پیغام سے ذریعے کیا گیا جنگ بندی کا اعلان مؤثر ہو گا یا نہیں۔
مزید پڑھیں
فریقین کے درمیان ابھی چند دن قبل طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ بہت کم وقت میں ٹوٹ کیا تھا۔
ایک اور نمایاں دروز مذہبی رہنما شیخ حکمت الہجری نے اس نئے معاہدے کو نامنظور کیا ہے۔
نئے جنگ بندی معاہدے کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیل نے جنوبی شام میں دروز کے حمایت کرتے ہوئے کئی سرکاری فورسز کو نشانہ بنایا اور دمشق میں بعض مقامات پر بمباری کی۔
اس سے قبل بدھ ہی کو شام کے جنوبی شہر السویدا میں دروز اقلیت کے عسکریت پسندوں اور شامی افواج کے دوران جاری لڑائی میں تیزی آ گئی تھی اور اسرائیل بھی اس جنگ میں شامل ہو گیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شام کی سرکاری فورسز اور دروز قبیلے کے درمیان جنگ بندی معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا تھا جب اسرائیل نے دروز قبیلے کی حمایت میں لڑائی میں شامل ہونے کی دھمکی دی تھی۔
اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے دمشق میں شامی وزارت دفاع کے داخلی راستے کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل نے جنوبی شام میں سرکاری افواج کے قافلوں پر کئی حملے کیے ہیں اور سرحد پر اپنی افواج کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے۔
اس سے قبل شام کی وزارت دفاع نے السویدا کے علاقے میں اکثریت میں آباد دروز قبیلے کے عسکریت پسندوں پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے منگل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
اسی دوران عام شہریوں پر حملوں اور دروز قبیلے کے افراد کی ہلاکتوں کی رپورٹس سامنے آئیں۔
واضح رہے کہ شام میں طویل حکمرانی کے بعد دسمبر میں بشار الاسد کو  اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد نئی عبوری حکومت کو خانہ جنگی کے شکار ملک کی تعمیر نو اور بحالی کا چیلنج درپیش ہے۔
دمشق کے قریب واقع جرمانہ کی 20 سالہ ایولین عزام نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے شوہر رابرٹ کیوان ہلاک ہو چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *